← Back to Blog
06 October 2026 abdalians achs lahore governance court-order cooperatives

تینوں اپیلیں خارج — سیکرٹری کوآپریٹوز کا 31 اگست 2026 کا فیصلہ، اور کارٹون کی دوسری قسط

ابدالینز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی نے تیرہ کمرشلائزیشن این او سی منسوخ کیے، ڈپٹی رجسٹرار نے منسوخی کو بے اثر قرار دیا، سوسائٹی نے دو اپیلیں اور ایک نظرثانی کی درخواست دائر کی۔ 31 اگست 2026 کو تینوں خارج۔ فیصلے میں کیا لکھا ہے، کیا نہیں لکھا، اور باجا گروپ کارٹون کی دوسری قسط 'تین اپیلیں'۔

متعلقہ صفحہ: ابدالینز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی، لاہور · پہلی قسط: تالاب کا جال · ماخذ: فیصلہ مورخہ 31 اگست 2026 (پی ڈی ایف، 7 صفحات، انگریزی) · یہی تحریر انگریزی میں.


فیصلہ ایک نظر میں

25 مئی 2025 کے اجلاسِ عام نے نظریۂ پاکستان روڈ کے پلاٹوں کی کمرشلائزیشن کی منظوری دی، رجسٹرار نے توثیق کی، پلاٹ مالکان نے سوسائٹی کو فیس دی، سوسائٹی نے این او سی جاری کیے، اور ایل ڈی اے نے زمین کے استعمال کی تبدیلی کی اجازت دی۔ مارچ 2026 میں نئی مینیجنگ کمیٹی نے ایک خط کے ذریعے تیرہ این او سی واپس لے لیے۔ ڈپٹی رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز لاہور نے (یکم اپریل، 22 جولائی اور 12 اگست 2026 کے احکامات میں) اس منسوخی کو بے اثر قرار دیا۔ سوسائٹی نے کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ 1925 کی دفعات 64 اور 64-اے کے تحت سیکرٹری کوآپریٹوز، حکومتِ پنجاب کے پاس دو اپیلیں اور ایک نظرثانی کی درخواست دائر کی۔ 31 اگست 2026 کو تینوں خارج ہوئیں اور ڈپٹی رجسٹرار کے احکامات برقرار رکھے گئے۔

فیصلے میں کیا لکھا ہے

  1. سوسائٹی کے اپنے اقدامات۔ فیس سوسائٹی نے لی، این او سی سوسائٹی نے دیے، ایل ڈی اے نے اپنا ریکارڈ دیکھ کر اجازت دی۔
  2. بعد کی کمیٹی یہ سب اکیلے واپس نہیں لے سکتی۔ ماسٹر پلان یا بائی لاز کی اپنی تشریح کی بنیاد پر، فیس لے کر دیے گئے این او سی یکطرفہ طور پر منسوخ نہیں کیے جا سکتے۔ اگر اعتراض ہے تو اسے “مجاز قانونی اور ریگولیٹری طریقۂ کار” سے طے کرانا ہوگا۔
  3. اعتبار۔ ادارے اور عوام کا رشتہ اعتماد پر ہے۔ جب ادارہ اجازت دے اور فرد اس پر عمل کر چکا ہو تو ادارہ بعد میں وہ اجازت واپس نہ لے۔
  4. دھوکا ثابت نہیں۔ سوسائٹی ریکارڈ سے یہ ثابت نہ کر سکی کہ این او سی پلاٹ مالکان کی طرف سے کسی دھوکے یا غلط بیانی سے حاصل کیے گئے۔

فیصلے میں کیا نہیں لکھا

  • یہ نہیں لکھا کہ ماسٹر پلان کمرشل استعمال کی اجازت دیتا ہے۔ لکھا یہ ہے کہ ماسٹر پلان کا اعتراض مقررہ قانونی طریقے سے اٹھایا جا سکتا ہے، مگر اس سے جاری شدہ این او سی خود بخود بے اثر نہیں ہوتے۔ اجلاسِ عام کا راستہ کھلا ہے؛ کمیٹی کا خط وہ راستہ نہیں۔
  • یہ نہیں لکھا کہ مقدموں کا خرچ کس نے دیا اور کتنا۔ تینوں مقدموں میں درخواست گزار سوسائٹی تھی۔ مقدموں پر کتنا خرچ ہوا، وکلاء کو کتنی فیس دی گئی، اور کس قرارداد کے تحت، یہ سوسائٹی کے حسابات اور اگلے اجلاسِ عام کا سوال ہے۔

“اکثریت” کی دلیل

کمیٹی کی طرف سے ایک جواب یہ آیا کہ ممبران کی اکثریت کمرشلائزیشن کے حق میں کبھی نہیں تھی۔ کوآپریٹو سوسائٹی میں اکثریت کی آواز اجلاسِ عام ہے، اور ریکارڈ میں 25 مئی 2025 کے اجلاسِ عام کی منظوری اور رجسٹرار کی توثیق موجود تھی۔ اگر اکثریت کی رائے بدل گئی ہے تو قانونی راستہ اجلاسِ عام کی قرارداد ہے۔ منسوخی کے خط لکھنا، ڈپٹی رجسٹرار کے سامنے ہارنا اور پھر تین بار اپیل کرنا، اس راستے کا الٹ ہے۔

کارٹون کی دوسری قسط: تین اپیلیں

خوش حال پورہ کوئی حقیقی گاؤں نہیں؛ کوئی کردار کسی حقیقی شخص، گروپ یا سوسائٹی کی نمائندگی نہیں کرتا۔ فیصلہ حقیقی ہے اور اوپر موجود ہے تاکہ ہر کوئی کارٹون کو اس سے ملا کر دیکھ سکے۔

ممبران کے لیے

  • فیصلہ خود پڑھیں (پی ڈی ایف)۔
  • اگلے اجلاسِ عام سے پہلے تین سوال تحریری طور پر پوچھیں: مقدموں کا خرچ، وکلاء کی فیس، اور وہ قرارداد جس کے تحت مقدمے دائر ہوئے۔
  • ماسٹر پلان کا سوال طے کرانا ہے تو اسے اجلاسِ عام کے ایجنڈے پر لائیں۔

وضاحت: یہ تحریر پنجاب حکومت کے ایک فورم کے عوامی فیصلے کا خلاصہ ہے جس میں سوسائٹی خود درخواست گزار تھی۔ اس میں کسی ممبر یا عہدیدار کا نام نہیں لیا گیا۔ کارٹون شہری آگاہی کے لیے طنز ہے۔

AI Q&A