فلم: سنہری قالین (اردو کارٹون) · یہی مضمون انگریزی میں · حوالے آخر میں
ایک جانا پہچانا منظر
کسی بھی محلے کا منظر ہے۔ جمعے کی نماز کے بعد ایک صاحب ڈبہ لیے کھڑے ہیں: مسجد کے لیے سنگِ مرمر آ رہا ہے، قالین آ رہا ہے، جھومر آ رہا ہے، اور “ہر دھاگے پر ثواب”۔ اسی مسجد کی چھت بارش میں ٹپکتی ہے، وضو کے نلکے رِستے ہیں، اور دو گلیاں چھوڑ کر ایک بیوہ کے گھر آج چولہا نہیں جلا۔ کوئی نام نہیں، کوئی خاص مسجد نہیں؛ یہ منظر ہم سب نے کہیں نہ کہیں دیکھا ہے، اور شاید اس ڈبے میں کچھ ڈالا بھی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ مانگنے والے کی نیت کیا ہے؛ نیت اللہ جانتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مانگا کیا جا رہا ہے، اور ہمارے ماخذ، یعنی قرآن، حدیث، تفسیر اور حنفی فقہ، اس مانگ کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ یہ مضمون انہی ماخذ کی ایک قرأت ہے۔
پہلی مسجد کیسی تھی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد نبوی کچی اینٹوں اور کھجور کی شاخوں سے بنی تھی، اور ستون کھجور کی لکڑی کے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں کچھ نہ بڑھایا؛ عمر رضی اللہ عنہ نے اضافہ کیا مگر اسی نقشے پر، کچی اینٹوں اور کھجور کی شاخوں سے؛ پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے بہت بڑھایا، دیواریں منقش پتھر اور چونے کی بنوائیں اور چھت ساگوان کی۔ (بخاری 446؛ ابو داؤد 451)
اس چھت کا حال ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سناتے ہیں: ایک بار بادل آیا اور ایسی بارش ہوئی کہ چھت ٹپکنے لگی، اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پانی اور کیچڑ میں سجدہ کرتے دیکھا، یہاں تک کہ پیشانی پر کیچڑ کا نشان تھا۔ (بخاری 669)
فرش پر کنکریاں تھیں۔ نماز میں ان پر ہاتھ پھیرنے سے منع فرمایا گیا: «جب تم میں کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو رحمت اس کا سامنا کرتی ہے، لہٰذا وہ کنکریوں پر ہاتھ نہ پھیرے»؛ ضرورت ہو تو ایک بار برابر کر لینے کی اجازت ہے۔ (ابو داؤد 945، 946) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چھوٹی سی چٹائی، خُمرہ، پر سجدہ کرتے تھے: کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی، بس چہرے اور ہاتھوں کی جگہ کے لیے کافی۔ (بخاری 379، 381؛ مسلم 1504) یہ چٹائی مسجد ہی میں رکھی رہتی تھی؛ آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: «مجھے مسجد میں سے جائے نماز پکڑا دو۔» (مسلم 689) تو مسجد کا فرش یہ تھا: مٹی، کنکریاں، اور کھجور کے پتوں کی ایک چھوٹی چٹائی۔ چھت کھجور کی، ستون کھجور کے، چٹائی کھجور کی؛ قالین کا نام و نشان نہیں۔
یہاں دو احتیاطیں ضروری ہیں۔ یہ نہ کہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے لیے پیش کیا ہوا قالین ٹھکرا دیا؛ ماخذ میں ایسا کوئی واقعہ نہیں۔ اور یہ بھی نہ کہیے کہ فرش “بالکل خالی” تھا؛ کنکریاں تھیں اور کھجور کے پتوں کی چٹائی تھی۔
البتہ یہ ضرور جانیے کہ مدینے کے گھروں میں بچھونے موجود تھے، اور آپ نے ان پر نماز بھی پڑھی۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے گھر میں نماز کا وقت آ جاتا تو آپ حکم دیتے کہ آپ کے نیچے کا بچھونا جھاڑ کر اس پر پانی چھڑکا جائے، پھر آپ کھڑے ہوتے اور وہ پیچھے صف بناتے۔ (بخاری 6203) ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ آپ کے ہاں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ «آپ ایک چٹائی پر نماز پڑھ رہے ہیں، اسی پر سجدہ کر رہے ہیں»۔ (مسلم 1505) مگر قیمتی بچھونے، جنہیں عربی میں اَنماط کہتے ہیں (رنگین بچھونے یا غالیچے؛ تراجم میں گدے، توشک اور قالین سبھی ملتے ہیں)، عام نہ تھے۔ جابر رضی اللہ عنہ کی شادی ہوئی تو آپ نے پوچھا: کیا تم نے انماط بنا لیے؟ جابر نے کہا: ہمیں انماط کہاں میسر؟ آپ نے فرمایا: عنقریب تمہارے پاس ہوں گے۔ (بخاری 3631؛ مسلم 5449؛ ابو داؤد 4145) یعنی قالین خوشحالی کے ساتھ آئے، اور آپ نے ان کے آنے کو برا نہیں کہا۔ پھر بھی مسجد کا فرش وہی رہا: مٹی، کنکریاں، کھجور کی چٹائی۔ ماخذ اتنا کہتے ہیں: مسجد سادہ تھی، اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد تھی۔
اور یہ بھی یاد رہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے جب مسجد نئے سرے سے بنائی تو لوگوں نے بہت باتیں کیں، یعنی اس پر ان کے اپنے زمانے میں بھی اختلاف تھا۔ انہوں نے اپنی رائے سے نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے جواب دیا کہ جو اللہ کی رضا کے لیے مسجد بنائے، اللہ اس کے لیے جنت میں ویسا ہی گھر بناتا ہے۔ (بخاری 450) یہ حدیث تعمیر کے بارے میں ہے، سجاوٹ کے بارے میں نہیں۔ یہ بھی دیکھیے کہ انہوں نے بدلا کیا: دیواریں، ستون اور چھت (بخاری 446؛ ابو داؤد 451)؛ فرش کے بارے میں دونوں روایتیں خاموش ہیں۔ اور کسی صحابی کا عمل، کتنا ہی محترم ہو، وحی نہیں؛ دین تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں مکمل ہو چکا تھا: «آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا» (المائدہ 5:3)۔
مسجد بنانا، بڑھانا اور مرمت کرنا ثواب ہے؛ اس مضمون میں کہیں اس پر اعتراض نہیں۔
جوتوں میں نماز
سعید بن یزید نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم جوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے؟ جواب ملا: ہاں۔ (بخاری 386) عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: «میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ ننگے پاؤں نماز پڑھتے اور جوتے پہن کر بھی۔» (ابو داؤد 653) یعنی دونوں طریقے آپ سے ثابت ہیں۔
پھر وہ واقعہ جو اس پورے مسئلے کی کنجی ہے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ نے جوتے اتار کر بائیں طرف رکھ دیے؛ لوگوں نے دیکھا تو انہوں نے بھی اتار دیے۔ نماز کے بعد آپ نے پوچھا کہ تم نے کیوں اتارے؟ انہوں نے کہا: آپ کو اتارتے دیکھا۔ آپ نے بتایا کہ جبرائیل علیہ السلام نے خبر دی تھی کہ ان میں نجاست لگی ہے، اور پھر فرمایا: «جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو وہ اپنے جوتے دیکھ لے اگر ان میں نجاست لگی ہوئی نظر آئے تو اسے زمین پر رگڑ دے اور ان میں نماز پڑھے۔» (ابو داؤد 650)
غور کیجیے: حکم جوتے اتارنے کا نہیں، جوتے دیکھنے کا ہے؛ اور نجاست ہو تو دھونے کا نہیں، زمین پر رگڑنے کا۔ اسی سے ملتی ہوئی حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہے: «جب تم میں سے کوئی شخص اپنے جوتے سے نجاست روندے تو (اس کے بعد کی) مٹی اس کو پاک کر دے گی۔» (ابو داؤد 385؛ موزوں کے بارے میں 386؛ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی 387) اور حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں اس امت کی خصوصیت: «ہمارے لیے ساری زمین نماز کی جگہ ہے اور زمین کی خاک ہم کو پاک کرنے والی ہے جب پانی نہ ملے۔» (مسلم 1165؛ اسی مضمون کی حدیث جابر رضی اللہ عنہ سے بخاری 335 اور 438)
ایک حدیث اور ہے، اور اس کے الفاظ یہ ہیں۔ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «یہود کی مخالفت کرو، کیونکہ نہ وہ اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے ہیں اور نہ اپنے موزوں میں۔» (ابو داؤد 652)
یہ حدیث کے الفاظ تھے۔ اب ہماری اپنی سمجھ، جو حدیث کا حصہ نہیں: بات عبادت کے طریقے کی ہے، اپنا طریقہ اپنا رکھو؛ یہ کسی قوم سے دشمنی کا حکم نہیں۔ ہم اس حدیث کو اس سے زیادہ نہیں کھینچتے۔
مفسرین کیا کہتے ہیں؟ قرطبی سورۂ طٰہٰ کی آیت «فاخلع نعلیک» (موسیٰ علیہ السلام کو جوتے اتارنے کا حکم) کے تحت یہی احادیث نقل کر کے لکھتے ہیں کہ علما میں اس پر اختلاف نہیں کہ پاک جوتوں میں، جو ذبح شدہ جانور کے چمڑے کے ہوں، نماز جائز ہے؛ یہاں تک کہ بعض علما نے کہا کہ ان میں نماز افضل ہے (قرطبی کے الفاظ: «حتى لقد قال بعض العلماء: إن الصلاة فيهما أفضل»)، اور اسے آیت «ہر نماز کے وقت اپنے تئیں مزیّن کیا کرو» (الاعراف 7:31) کا مطلب بتایا۔ (قرطبی، جلد 11 صفحہ 173) مگر وہی قرطبی سورۂ اعراف میں اسی آیت کے تحت لکھتے ہیں کہ “زینت سے مراد جوتوں میں نماز ہے” والی روایت انس سے منسوب ہے «ولم یصح»، یعنی صحیح ثابت نہیں ہوئی۔ (قرطبی، جلد 7 صفحہ 190) اس لیے ہم “افضل ہے” نہیں کہتے؛ ہم اتنا کہتے ہیں کہ بعض علما نے اسے افضل کہا۔
موسیٰ علیہ السلام والے حکم پر قرطبی اور ابن کثیر کئی وجہیں نقل کرتے ہیں: ایک یہ کہ وہ جوتے غیر مذبوح گدھے کے چمڑے کے تھے؛ ایک یہ کہ مقدس وادی کی مٹی قدموں کو چھوئے؛ ایک یہ کہ مناجات کے وقت عاجزی ہو۔ (قرطبی جلد 11 صفحہ 172؛ ابن کثیر جلد 5 صفحہ 275) حنفی اصول یہ ہے کہ پچھلے انبیا کی شریعت ہم پر بھی لازم ہے جب تک منسوخ نہ ہو (جصاص، احکام القرآن، جلد 4 صفحہ 91)؛ اس لیے موسیٰ علیہ السلام کے حکم کو یوں ہی رد نہیں کیا جاتا، بلکہ جوتوں کا مسئلہ اس امت کی اپنی مخصوص احادیث سے طے ہوتا ہے، جو اوپر گزریں۔
اسی جگہ قرطبی ابراہیم نخعی کا قول لائے ہیں، جو جوتے اتار کر رکھنے والوں کے بارے میں کہتے تھے: کاش کوئی ضرورت مند آئے اور انہیں اٹھا لے جائے («لوددت أن محتاجا جاء فأخذها»)۔ (جلد 11 صفحہ 173) اور ساتھ ہی ایک ادب: اگر اتارو تو اپنے قدموں کے بیچ رکھو، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے الفاظ میں، ان سے کسی مسلمان کو تکلیف نہ دو («ولا تؤذ بهما مسلما»)۔ یہ جملہ آگے کام آئے گا۔
ایک بات اور، تاکہ کوئی غلط نہ سمجھے۔ قرطبی یہ بھی لکھتے ہیں کہ اگر جوتے پر ایسی نجاست یقینی ہو جس کے نجس ہونے پر سب کا اتفاق ہے، جیسے خون یا انسانی فضلہ، تو مالک، شافعی اور اکثر علما کے نزدیک اسے پانی سے دھونا ہی پاک کرتا ہے؛ اور جن نجاستوں میں اختلاف ہے، ان میں مٹی سے رگڑنے کے کافی ہونے پر دو قول ہیں۔ (جلد 11 صفحہ 173 تا 174) یعنی “مٹی پاک کر دیتی ہے” ایک وسعت ہے، ہر حالت کا عام قاعدہ نہیں؛ اپنی حالت کا مسئلہ اپنے عالم سے پوچھیے۔
قالین نے کیا بدلا
اب اصل بات۔ مٹی اور کنکری کے فرش پر جوتے کا ایک ذرہ مٹی کبھی مسئلہ نہیں تھا؛ مٹی تو خود پاک کرنے والی ٹھہری تھی۔ دھیان صرف نجاست کا رکھنا تھا۔ قالین آیا تو ہر ذرہ مسئلہ بن گیا۔ جوتا دروازے پر رہ گیا، اور اس کے ساتھ ایک سنت پر عمل بھی دروازے پر رہ گیا۔ ننگے پاؤں نماز بھی سنت ہے، اس لیے یہ نہ کہیے کہ قالین نے سنت ختم کر دی؛ اتنا کہیے کہ دو سنتوں میں سے ایک پر عمل ناممکن ہو گیا۔
تو کیا آج قالین والی مسجد میں جوتے پہن کر چلے جائیں؟ نہیں۔ اور وجہ سمجھ لیجیے، کیونکہ وجہ ہی غلط سمجھی جاتی ہے۔ وجہ یہ نہیں کہ سجدے کی جگہ پر مٹی لگ جانا کوئی مسئلہ ہے؛ جس نے پانی اور کیچڑ میں سجدہ کیا ہو (بخاری 669)، اس کے دین میں مٹی کا ذرہ عیب نہیں۔ وجہ آج کا رواج ہے: قالین پر جوتا اتارنے کا عرف اتنا پختہ ہے کہ اس کے خلاف چلنا لوگوں کو تکلیف دے گا، صف میں جھگڑا پیدا کرے گا، اور وہی ادب ٹوٹے گا جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سکھایا: کسی مسلمان کو تکلیف نہ دو۔ سو جہاں قالین بچھا ہے وہاں جوتا اتاریے، اور دل میں جانیے کہ آپ رواج اور لوگوں کے خیال سے اتار رہے ہیں، مٹی کے ڈر سے نہیں۔
سنت پر عمل کہاں زندہ کیا جائے؟ جہاں زمین خود اس کے لائق ہو: عید گاہ، کھلا میدان، گھر کا صحن، اور وہ نئی مسجد جس کا صحن مٹی یا کنکری کا رکھا جائے۔ وہاں جوتا دیکھیے، نجاست ہو تو مٹی پر رگڑیے، اور انہی میں نماز پڑھیے، بالکل حدیث کے الفاظ کے مطابق۔ (ایک بات صاف کہہ دیں: سنت زندہ کرنے پر “سو شہیدوں کا اجر” اور اس طرح کی جو روایتیں عام سنی جاتی ہیں، وہ ضعیف درجے کی ہیں، اس لیے ہم ان پر کوئی وعدہ نہیں باندھتے؛ آگے صحیح مسلم کی ایک حدیث آئے گی جو اس کے لیے کافی ہے۔)
تعمیر اور سجاوٹ: فقہ کیا کہتی ہے
مسجد بنانا ثواب ہے (بخاری 450)۔ مگر اسی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مجھے مسجدوں کے بلند کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے»؛ اور راوی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: «تم مسجدیں اسی طرح سجاؤ گے جس طرح یہود و نصاریٰ سجاتے تھے۔» (ابو داؤد 448) اور انس رضی اللہ عنہ کی روایت: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کہ لوگ مسجدوں پر فخر و مباہات نہ کرنے لگیں۔» (ابو داؤد 449)
گھر کی دیوار پر بھی یہی مزاج تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دروازے پر ایک کپڑا لٹکا دیا؛ آپ سفر سے لوٹے تو اسے کھینچ کر اتار دیا اور فرمایا کہ اللہ نے ہمیں پتھر اور مٹی کو کپڑا پہنانے کا حکم نہیں دیا (عربی الفاظ: «إن الله لم يأمرنا أن نكسو الحجارة والطين»)۔ پھر اسی کپڑے کے دو تکیے بنا لیے گئے اور آپ نے کچھ نہ کہا۔ (مسلم 5519، 5520) استعمال ٹھیک، دیواروں کا لباس نہیں؛ یہی فرق آگے فقہ میں ملے گا۔
حنفی فقہ نے اس مسئلے کو جس احتیاط سے لیا ہے، وہ سیکھنے کی چیز ہے۔ امام سرخسی «المبسوط» میں (جلد 30، صفحات 282 تا 284) لکھتے ہیں کہ مسجد کو گچ، ساگوان اور سونے کے پانی سے سجانے میں «لا بأس»، یعنی کوئی حرج نہیں۔ پھر اپنے استاد کا قول نقل کرتے ہیں کہ اس لفظ میں اشارہ ہے کہ اس پر ثواب نہیں ملتا؛ “کوئی حرج نہیں” حرج اٹھانے کے لیے کہا جاتا ہے، ثواب ثابت کرنے کے لیے نہیں؛ مطلب یہ کہ آدمی «رأساً برأس»، سر کے بدلے سر، برابر چھوٹ جائے تو کافی ہے۔ سرخسی لکھتے ہیں کہ فقہا کے نزدیک مذہب یہی ہے، اور ظاہری علما تو اسے مکروہ کہتے اور کرنے والے کو ٹوکتے ہیں۔ اسی سلسلے میں وہ نقل کرتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ ایک سجی سجائی مسجد کے پاس سے گزرے تو کہنے لگے: یہ کس کے گرجے ہیں؟ («لمن هذه البيع؟») اور جب ولید بن عبدالملک نے مسجد نبوی کی آرائش کے لیے چالیس ہزار دینار بھیجے اور وہ مال عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے سامنے سے گزرا تو انہوں نے کہا: مسکین اس مال کے ستونوں سے زیادہ محتاج ہیں («المساكين أحوج إلى هذا المال من الأساطين»)۔
پھر سرخسی اپنی رائے دیتے ہیں، اور یہاں انصاف ضروری ہے۔ ان کے نزدیک “کوئی حرج نہیں” اس لیے ہے کہ سجاوٹ سے جماعت بڑھتی ہے اور لوگ نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھنے کی طرف راغب ہوتے ہیں؛ مسجد کی تعظیم کا حکم ہے اور بعض عوام کے دلوں میں تعظیم سجاوٹ سے بڑھتی ہے، اس لیے “کہا جا سکتا ہے کہ اس راستے سے اسے اجر ملے” («فيمكن أن يقال بهذا الطريق يؤجر»)۔ وہ ایک حدیث لاتے ہیں کہ مومن کو ہر خرچ پر ثواب ہے سوائے عمارت کے، اور بعض روایتوں میں “سوائے مسجدوں کے” کا اضافہ ہے؛ اور لکھتے ہیں کہ اگر یہ اضافہ ثابت ہو تو مسجد کی تعمیر اور آرائش پر ثواب کی دلیل ہے۔ اور جن آثار میں سجاوٹ کی مذمت ہے، ان کا محمل ان کے نزدیک یہ ہے کہ ناپاک مال سے سجایا جائے، یا ریا اور شہرت کی نیت سے۔
اس کے بعد دو فیصلے ہیں جن میں کوئی ابہام نہیں۔ پہلا: افضل یہی ہے کہ آدمی ضرورت بھر پر قناعت کرے اور جو زائد ہو اسے اپنی آخرت کے لیے آگے بھیج دے؛ اس پر سرخسی ابوذر رضی اللہ عنہ کی وہ پکار نقل کرتے ہیں جو وہ حج کے دنوں میں کعبہ کے پردوں سے لپٹ کر لگاتے تھے کہ سفر پر جانے والا تیاری کرتا ہے، تو تم آخرت کے سفر کی تیاری کیوں نہیں کرتے۔ دوسرا: یہ ساری گنجائش اپنے حلال مال کی ہے۔ مسجد کے مال سے سجاوٹ کرنے والا گنہگار ہے؛ مسجد کے مال سے صرف وہ کام ہو گا جو تعمیر کے احکام میں آتا ہے۔ مشائخ نے کہا کہ متولی مسجد کے مال سے دیوار پر گچ کر سکتا ہے مگر گچ پر نقش و نگار نہیں کر سکتا، اور کرے تو ضامن ہے، یعنی اپنی جیب سے بھرے گا۔ (المبسوط، جلد 30 صفحہ 283)
تو ایماندارانہ خلاصہ یہ ہے: اپنی جیب سے سجاوٹ جائز ہے؛ مذہب کے طے شدہ قول میں اس پر ثواب نہیں؛ سرخسی کے نزدیک شاید ہو؛ افضل اس سے نیچے رہنا ہے؛ اور چندے کے صندوق سے سجاوٹ کبھی جائز نہیں۔ اب اس پیمانے پر اس ڈبے کو رکھیے جس میں “سجاوٹ کے لیے” مانگا جا رہا ہے: جو چیز فقہ میں افضل سے نیچے ہے، اور جو مسجد کے اپنے صندوق سے بھی نہیں کی جا سکتی، اس کے لیے “ہر دھاگے پر محل” کا وعدہ کس حساب سے؟
چندہ لینے والا
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو زکوٰۃ وصول کرنے بھیجا۔ وہ لوٹا تو کہنے لگا: یہ آپ کا ہے، اور یہ مجھے تحفے میں ملا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم اپنے باپ یا ماں کے گھر کیوں نہ بیٹھے رہے، پھر دیکھتے کہ تحفے آتے ہیں یا نہیں۔ پھر یہی بات لوگوں کے سامنے خطبے میں کہی اور فرمایا کہ جو اس مال میں سے کچھ لے گا وہ قیامت کے دن اسے اپنی گردن پر اٹھائے آئے گا۔ (بخاری 6636، 7197)
یہ حدیث نیت پر فیصلہ نہیں دیتی؛ یہ ایک سادہ کسوٹی دیتی ہے: جو کچھ عہدے کی وجہ سے ملا، وہ عہدے کا ہے، تمہارا نہیں۔ اسی لیے ہم کسی چندہ لینے والے کے دل کا فیصلہ نہیں کرتے؛ صرف مانگ کو دیکھتے ہیں اور حساب کو۔ اور چونکہ «اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک (مال) کے سوا (کوئی مال) قبول نہیں کرتا» (مسلم 2346)، اس لیے مسجد کے لیے دینے والے کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اس کا پیسہ کہاں جا رہا ہے۔
ضرورت پہلے، سجاوٹ بعد میں
صحیح مسلم کی ایک حدیث اس سارے مضمون کو ایک منظر میں سمیٹ دیتی ہے۔ جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ کچھ لوگ آئے: ننگے پاؤں، ننگے بدن، دھاری دار چادریں گلے میں ڈالے، تلواریں لٹکائے، فاقے کے مارے؛ ان کی حالت دیکھ کر آپ کا چہرہ بدل گیا۔ آپ اندر گئے، باہر آئے، بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کا حکم دیا، نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا اور صدقے کی ترغیب دی، «چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے»۔ ایک انصاری ایسی تھیلی لایا جو اس کی ہتھیلی سے اٹھائی نہ جاتی تھی؛ پھر لوگ آتے گئے، یہاں تک کہ کھانے اور کپڑوں کے دو ڈھیر لگ گئے اور آپ کا چہرہ خوشی سے دمکنے لگا۔ تب آپ نے فرمایا: «جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ رائج کیا تو اس کے لیے اس کا (اپنا بھی) اجر ہے اور ان کے جیسا اجر بھی جنھوں نے اس کے بعد اس (طریقے) پر عمل کیا، اس کے بغیر کہ ان کے اجر میں کوئی کمی ہو۔» (مسلم 2351)
دیکھیے، وہ “اچھا طریقہ” جس پر یہ وعدہ اترا، بھوکوں کو کھلانا تھا۔ ثواب وہیں پڑا تھا، مسجد کے اپنے صحن میں، اور ہم اسے شہر بھر میں ڈھونڈتے پھرتے ہیں: ٹپکتی چھت کی مرمت، رِستے نلکے، صحن کی صفائی، اور پڑوس کا چولہا۔ قرآن مسجدوں کو آباد کرنے والوں کی صفت یہ بتاتا ہے کہ وہ ایمان رکھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں، «اور خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے» (التوبہ 9:18)۔ اس فہرست میں سنگِ مرمر نہیں ہے۔
اس لیے اگلی بار جب کوئی ڈبہ سامنے آئے تو تین سوال پوچھ لیجیے، کسی سے جھگڑے بغیر:
- کس لیے؟ ضرورت ہے یا سجاوٹ؟ چھت، نلکا، صفائی اور پانی، یا قالین اور جھومر؟
- پیسہ کس کے پاس رہے گا؟ متولی کے پاس، حساب کے ساتھ، یا کسی ایک فرد کی جیب میں؟
- نام کس کا چاہیے؟ اگر کام کے ساتھ نام کی شرط ہے تو وہ شرط آپ کو کچھ بتا رہی ہے۔
یہ مضمون ماخذ کی ایک قرأت ہے، فتویٰ نہیں۔ اپنی مسجد اور اپنے معاملے کے لیے اس عالم سے پوچھیے جس پر آپ کو اعتماد ہو۔ اور یہی کہانی، ہنسی کے ساتھ، ہماری فلم «سنہری قالین» میں ہے، جس میں خوش حال پورہ کا جمعہ نائی “سنہری قالین فنڈ” کھولتا ہے اور آخر میں پوچھتا ہے کہ مفت ثواب میں اس کا دس فیصد کہاں گیا۔ (فلم یہاں دیکھیں)
حوالہ جات
نمبروں کے بارے میں: بخاری کے نمبر اس انگریزی ترجمے، جس سے یہاں کام لیا گیا، (کریہل نمبرنگ) کے ہیں؛ ابو داؤد اور مسلم کے نمبر hadith-api ایڈیشن (fawazahmed0) کے مسلسل نمبر ہیں، جو چھپی ہوئی کتابوں کے نمبروں سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ قرطبی، ابن کثیر، جصاص اور سرخسی کے حوالے OpenITI کے نسخوں کی چھپی ہوئی جلد اور صفحے کے ہیں۔ قرآن کا ترجمہ جالندھری۔
- قرآن: المائدہ 5:3؛ الاعراف 7:31؛ التوبہ 9:18؛ طٰہٰ 20:12
- صحیح بخاری 446 (مسجد نبوی کی بناوٹ)؛ 669 (بارش، پانی اور کیچڑ میں سجدہ)؛ 379 اور 381 (خمرہ، کھجور کے پتوں کی چھوٹی چٹائی)؛ 6203 (انس رضی اللہ عنہ کے گھر کا بچھونا)؛ 3631 (جابر رضی اللہ عنہ: انماط)؛ 450 (عثمان رضی اللہ عنہ کی تعمیر؛ جو اللہ کے لیے مسجد بنائے)؛ 386 (جوتوں میں نماز)؛ 335 اور 438 (ساری زمین نماز کی جگہ)؛ 6636 اور 7197 (زکوٰۃ وصول کرنے والے کا “تحفہ”)
- سنن ابی داؤد 451 (مسجد نبوی اور بعد کی تعمیر)؛ 945 اور 946 (کنکریاں)؛ 656 (خمرہ)؛ 4145 (انماط)؛ 653 (ننگے پاؤں اور جوتوں میں)؛ 650 (جوتے دیکھو، رگڑو، انہی میں نماز پڑھو)؛ 652 (یہود کی مخالفت کرو)؛ 385، 386 اور 387 (مٹی جوتے کو پاک کرتی ہے)؛ 448 (مسجدیں بلند کرنے کا حکم نہیں)؛ 449 (مسجدوں پر فخر)
- صحیح مسلم 689 (مسجد میں سے خمرہ پکڑا دو)؛ 1504 (خمرہ، کھجور کے پتوں کی)؛ 1505 (چٹائی پر نماز اور سجدہ)؛ 5449 اور 5450 (انماط)؛ 5519 اور 5520 (پتھر اور مٹی کو کپڑا پہنانے کا حکم نہیں)؛ 1165 (ساری زمین مسجد، خاک پاک کرنے والی)؛ 2346 (اللہ پاک ہے، پاک ہی قبول کرتا ہے)؛ 2351 (جو اچھا طریقہ رائج کرے)
- قرطبی، الجامع لاحکام القرآن: جلد 11 صفحات 172 تا 174 (طٰہٰ 20:12: موسیٰ علیہ السلام کے جوتے؛ جوتوں میں نماز؛ بعض علما نے افضل کہا؛ ابراہیم نخعی؛ جوتے کہاں رکھیں؛ نجاست اور دھونا)؛ جلد 7 صفحہ 190 (الاعراف 7:31: جوتوں والی روایت صحیح نہیں)
- ابن کثیر، تفسیر: جلد 5 صفحہ 275 (طٰہٰ 20:12)
- جصاص، احکام القرآن: جلد 4 صفحہ 91 (پچھلی شریعتیں لازم ہیں جب تک منسوخ نہ ہوں)
- سرخسی، المبسوط: جلد 30 صفحات 282 تا 284 (مسجد کی سجاوٹ؛ استاد کا قول؛ علی رضی اللہ عنہ اور عمر بن عبدالعزیز کے اقوال؛ سرخسی کی اپنی رائے؛ افضل راستہ؛ مسجد کے مال سے سجاوٹ اور متولی کا ضمان)
- ضعیف روایات، جن پر اعتماد نہیں کیا گیا: مشکوٰۃ 168، 175، 176 (سنت زندہ کرنے پر اجر کی روایتیں؛ مشکوٰۃ کے نسخے کی اپنی درجہ بندی: ضعیف)
