← Back to Blog
22 September 2026 abdalians achs lahore graveyard civic-awareness urdu

اپنی سوسائٹی کا قبرستان اور پارک کیسے بچائیں — ابدالینز سوسائٹی کا تجربہ

ابدالینز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی لاہور کے قبرستان کے ایک حصے پر نرسری بنی، مکینوں نے قانونی راستہ اپنایا اور معاہدہ ختم ہوا۔ پنجاب کی ہر ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے چار قدموں کی رہنمائی۔

قبرستان پر نرسری — دستاویزی فلم

ابدالینز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی، لاہور کے منظور شدہ لے آؤٹ پلان میں 19.45 کنال زمین قبرستان کے لیے مختص ہے — یعنی سوسائٹی کے کل رقبے کا دو فیصد۔ نقشے پر اس زمین کا ایک ہی استعمال لکھا ہے: تدفین۔

اس کے باوجود نومبر 2025 میں قبرستان کے ایک حصے پر نرسری قائم کر دی گئی۔ مکینوں نے نہ احتجاج کیا، نہ کسی پر الزام لگایا — صرف تحریری سوال کیا۔ ستمبر 2026 میں سوسائٹی کی مینجمنٹ کمیٹی نے معاہدہ ختم کرنے کی قرارداد منظور کی اور نرسری کو 15 دسمبر 2026 تک جگہ خالی کرنے کا نوٹس دیا گیا۔ الحمدللہ۔

پوری کہانی، اصل دستاویزات اور مکمل متن کے ساتھ ہماری مختصر دستاویزی فلم یہاں دیکھیں: قبرستان پر نرسری — شہریوں نے قانونی راستے سے کیسے روکا

یہ تحریر اسی تجربے سے نکلی ہوئی رہنمائی ہے، تاکہ لاہور اور پنجاب کی کسی بھی سوسائٹی کے مکین اپنا قبرستان، پارک اور کھلی جگہیں محفوظ رکھ سکیں۔

پہلا قدم: منظور شدہ لے آؤٹ پلان حاصل کریں

ہر رجسٹرڈ ہاؤسنگ سوسائٹی کا ایک منظور شدہ لے آؤٹ پلان ہوتا ہے۔ اسے سوسائٹی آفس سے یا متعلقہ ترقیاتی ادارے (لاہور میں ایل ڈی اے) سے حاصل کریں، اور دیکھیں کہ قبرستان، پارک اور کھلی جگہیں کہاں ہیں اور کتنی ہیں۔

ہمارے معاملے میں ساری بات اسی نقشے پر پہلے دن سے لکھی ہوئی تھی۔ اسے دیکھنے کے لیے کسی وکیل کی ضرورت نہیں تھی — صرف نقشہ کھولنے کی۔

دوسرا قدم: تاریخ کے ساتھ تصاویر لیں، اور تحریری سوال کریں

اگر زمین کا استعمال نقشے سے مختلف ہو تو:

  • تاریخ کے ساتھ تصاویر لیں۔ لوگوں کے چہرے اور نام تصویر میں نہ آئیں۔
  • کسی پر الزام لگائے بغیر تحریری سوال کریں۔

ہماری درخواست میں صرف تین سوال تھے:

  1. کیا قبرستان کی زمین پر نرسری کی اجازت ہے؟
  2. اگر ہے، تو کس نے دی؟
  3. اور اگر نہیں، تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

سوال میں طاقت ہوتی ہے، کیونکہ اس کا جواب دینا پڑتا ہے۔ الزام میں وہ طاقت نہیں، کیونکہ اس کا جواب بھی الزام ہوتا ہے۔

تیسرا قدم: درخواست متعلقہ ادارے کو دیں

  • کوآپریٹو سوسائٹی ہو تو: رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز پنجاب
  • زمین کے استعمال کے لیے: متعلقہ ترقیاتی ادارہ (لاہور میں ایل ڈی اے)
  • تجاوزات کے لیے: پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا)
  • اور اگر جواب نہ ملے تو: محتسب پنجاب

ہم نے 18 مارچ 2026 کو تصاویر اور نقشے کے ساتھ درخواست ایل ڈی اے کو دی، اور اس کی نقول رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز پنجاب اور پیرا کو بھیجیں۔ بعد میں یہی معاملہ محتسب پنجاب کے سامنے شکایت کی صورت میں رکھا گیا۔

چوتھا قدم: ہر درخواست کی رسید اور نقل سنبھال کر رکھیں

ہر درخواست کی وصولی کی رسید اور اس کی نقل محفوظ رکھیں۔ ریکارڈ ہی وہ چیز ہے جو کسی دفتر کو جواب دینے پر مجبور کرتی ہے۔

نتیجہ کیا نکلا

تاریخکیا ہوا
21 نومبر 2025انتظامیہ اور ایک نجی نرسری کے درمیان معاہدہ (سوسائٹی کے اپنے نوٹس کے مطابق)
18 مارچ 2026مکینوں کی تحریری درخواست: ایل ڈی اے، رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز، پیرا
5 ستمبر 2026مینجمنٹ کمیٹی کی معاہدہ ختم کرنے کی قرارداد
16 ستمبر 2026نرسری کو تین ماہ کا نوٹس، حوالہ 2209
21 ستمبر 2026اسسٹنٹ رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز نے محتسب پنجاب کے سامنے کارروائی ریکارڈ پر رکھی
15 دسمبر 2026جگہ خالی کرنے کی آخری تاریخ

ہم اس فیصلے پر سوسائٹی کی انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔

ظاہر بمقابلہ حقیقت

قرآنِ مجید (سورۃ الاعراف، 7:163–166) ایک بستی کا ذکر کرتا ہے جسے ہفتے کے دن مچھلی پکڑنے سے منع کیا گیا تھا۔ انہوں نے جمعہ کو جال لگائے اور اتوار کو نکال لیے۔ ہفتے کو کسی نے مچھلی نہیں پکڑی — قانون کے الفاظ بچ گئے، مگر قانون کا مقصد ختم ہو گیا۔

قبرستان بیچا نہیں گیا، صرف کرائے پر دیا گیا — یہ ظاہر ہے۔ مرحومین کی حرمت متاثر ہوئی — یہ حقیقت ہے۔ اسی سوچ پر ہماری تحقیق “سبت کے تالاب کا امتحان” مبنی ہے۔

اس بستی میں تین گروہ تھے: ایک جس نے حیلہ کیا، ایک جو خاموش رہا، اور ایک جس نے روکا۔ قرآن کہتا ہے: ہم نے اُن کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے۔


قبرستان اثاثہ نہیں، امانت ہے۔ اسے امانت کی طرح سنبھالیے۔

یہ تحریر شہری آگاہی کے لیے ہے۔ کسی فرد یا ادارے پر الزام مقصود نہیں۔ یہ سوسائٹی کا سرکاری چینل نہیں۔

AI Q&A